کورونا وائرس ویکسین پر نیا عالمی تنازع سامنے آگیا


امریکہ اور چین کی علیحدہ ویکسین تیاری کی کوشش کررہے ہیں‘فارماسوٹیکل طاقتیں عالمی سطح پر حقوق کے لیے قانونی دستاویزات کی تیاری کررہی ہیں امیر ممالک کورونا وائرس ویکسین کی ذخیرہ اندوزی کر سکتے ہیں‘اس بات کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے کہ پوری دنیا کو ویکسین سستے داموں دستیاب ہو. یورپی یونین
رسلز(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔یکم جولائی ۔2020ء) کورونا وائرس کے حوالے سے ایک نیا عالمی تنازع سامنے آیا ہے فارماسوٹیکل طاقت کے دو مراکز امریکہ اور چین کی علیحدہ ویکسین تیاری کی کوشش ایک پریشان کن صورتحال کی طرف اشارہ کر رہی ہے یورپی ممالک کا خیال ہے کہ وائرس کے لیے تیار ہونے والی ویکسین پر تمام ممالک کی ملکیت کا حق تسلیم کیا جانا چائیے جبکہ امریکا‘چین ‘ اسرائیل سمیت ویکسین کی تیاری میں مصروف ممالک عالمی سطح پر اس کے حقوق حاصل کرنے کے لیے قانونی دستاویزات تیار کررہے ہیں .یورپی ممالک کے اس خیال کی تائید کرنے والے ممالک کو تشویش ہے کہ اس وقت ویکسین کی تیاری کے لیے ایک مقابلہ نظر آ رہا ہے ایسے میں یہ سوال ضرور ابھرتا ہے کہ کیا امیر ممالک کورونا وائرس ویکسین کی ذخیرہ اندوزی کر سکتے ہیں؟ . اس خیال کو تقویت ویکسین کی تیاری میں مصروف ممالک کی جانب عالمی سطح پر حقوق حاصل کرنے کے لیے قانونی کاروائیوں سے مل رہی ہے کہ ویکسین تیار کرنے والے ممالک اسے مہنگے داموں دنیا میں فروخت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ممکن ہے کہ کئی غریب ممالک اس ویکسین کو خریدہی نہ سکیں .اس سلسلہ میں یورپی یونین کے ایک ادارے کا کہنا ہے کہ دنیابھر کی حکومتوں کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کرکے ایسی قراردادمنظور کروائی جانے چاہیے جس کے تحت جو ملک بھی کورونا کے خلاف پہلے ویکسین بنانے میں کامیاب ہو اس کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہوگی کہ وہ تمام ممالک کو سستے داموں ویکسین فراہم کرئے اور اس کا فارمولا بھی شیئرکیا جائے تاکہ غریب سے غریب ممالک بھی اس سے استفسادہ حاصل کرسکیں.ادھریورپی ملک جمہوریہ چیک میں ایک پارٹی منعقد ہوئی جس کے ذریعے کورونا وائرس کو ”علامتی طور پر الوداع“کہا گیا پارٹی کے لیے ہزاروں مہمان پراگ کے چارلس برج پر ایک 500 میٹر لمبے ٹیبل کے گرد جمع ہوئے اور گھر سے بنا کر لائے گئے کھانے پینے کی اشیا بانٹیں. اس دوران سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھا گیا جبکہ مہمانوں کو اپنے ساتھ کھڑے افراد کے ساتھ کھانا کھانے کا کہا گیا یہ ایسی باتیں ہیں جو ان ممالک کے لوگوں کے لیے نئی ہیں جو اس وقت بھی لاک ڈاﺅن میں ہیں جمہوریہ چیک میں اب تک 12 ہزار سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں یہ 1 کروڑ آبادی والا ملک ہے جہاں 350 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں اس تقریب کے منتظمین کا کہنا تھا کہ اس کا انعقاد اس لیے ممکن ہو سکا کیونکہ ملک میں سیاح نہ ہونے کے برابر ہیں تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ کتنے قریب بیٹھے ہیں اور مقامی موسیقاروں کی سے محظوظ ہو رہے ہیں.اس سے قبل بعض امریکی اور یورپی طبی ماہرین بھی کہہ چکے ہیں کہ جراثیم کش ادویات کے بہت زیادہ استعمال سے نہ صرف زیادہ پچیدہ مسائل پیدا ہونگے بلکہ انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہوسکتا ہے کیونکہ ان ادویات سے انسان دوست جراثیم اور بیکٹریاز بھی ختم ہورہے ہیں جوکہ ہماری صحت میں مددگار ثابت ہوتے ہیں. ان ماہرین نے حکومتوں کی جانب سے لاک ڈاﺅنز کو غیرضروری قراردیتے ہوئے یہ تھیوری پیش کی تھی کہ انسانوں کے ہاتھ ملانے اور میل جول سے وہ انسانوں کے دوست جراثیم اور بیکٹریازکا تبادلہ بھی کرتے ہیں جس سے ہمارا مدافعتی نظام مظبوط ہوتا ہے مگر جراثیم کش صابن‘سینٹائزراور دیگر کیمیکلزسے نقصان دہ بیکٹریازاور جراثیم کے ساتھ ساتھ انسانی صحت کے لیے ضروری جراثیم اور بیکٹریازبھی ختم ہورہے ہیں‘انہوں نے کہا اس کی مثال ہم زراعت سے لے سکتے ہیں کہ زہریلے کیمیکلز سے نہ صرف زمین اور فصلوں کے دوست کیڑے مکوڑوں کا مکمل صفایا ہوگیا بلکہ ہماری خوراک اور ماحول بھی ان سے آلودہ ہوا.
دنیا بھر میں کورونا کے حوالے سے ایک چیز مشترک ہے وہ ہے امیون سسٹم یا مدافعتی نظام اور ہم اس بارے میں بہت کم جانتے ہیںایک نئی تحقیق کے مطابق اٹلی کے ایک گاﺅں میں کورونا وائرس سے متاثرہ جن لوگوں کو قرنطینہ کیا گیا تھا ان میں سے 40 فیصد میں مرض کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں اٹلی اور برطانوی ماہرین کی اس تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ اور مقامی سطح پر لاک ڈاﺅن کی مدد سے کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکا جاسکتا ہے.
اس گاﺅں کی آبادی صرف 3200 افراد پر مشتمل تھی اور یہاں ملک میں 21 فروری کو پہلی ہلاکت کے بعد دو ہفتوں کے لیے لاک ڈاﺅن کیا گیا تھا اس پورے گاﺅں میں ٹیسٹنگ کی گئی نتائج سے معلوم ہوا کہ گاﺅں کی 2.6 فیصد آبادی یعنی 73 لوگوں میں کورونا وائرس موجود تھا. دو ہفتوں کے لاک ڈاﺅن کے بعد صرف 29 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی دونوں مرتبہ تقریباً 40 فیصد کیسز میں علامات ظاہر نہیں ہوئیںتاہم وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کے لیے تمام افراد کو قرنطینہ منتقل کر دیا گیا تھا .
تحقیق کی سربراہ پروفیسر انڈریا کرسینٹی کے مطابق خاموشی سے پھیلنے والے اس وائرس کو قابو کیا جاسکتا ہے وہ کہتی ہیں کہ تمام شہریوں کی ٹیسٹنگ، یہ جانے بغیر کہ ان میں علامات ہیں یا نہیں سے وبا کو روکا جاسکتا ہے. ادھر امریکی ریاست نیویارک کے گورنر نے کہا ہے کہ مزید8 ریاستوں کے شہریوں کو نیویارک آمد پر 14 دن قرنطینہ میں رہنا ہوگا ایک وقت میں وائرس سے بری طرح متاثر نیویارک میں اب کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں .
ان 8 ریاستوں میں کیلیفورنیا، جارجیا، آئیووا، آئیڈہو، نیواڈا، ٹینیسی اور دیگر ریاستیں شامل ہیں۔

فلوریڈا، ایریزونا، ٹیکساس اور جنوبی کیرولائنا پہلے سے اس فہرست میں شامل ہیںامریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس حکم سے تقریباً آدھی امریکی آبادی متاثر ہوگی. نیویارک میں کورونا کے مزید 28 متاثرین اور 13 اموات سامنے آئی تھیںعالمی ادارہ صحت نے رواں ہفتے خبردار کیا تھا کہ عالمی وبا ابھی ختم ہونے میں بہت وقت لگے گا .

Post a Comment